مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ جاری مذاکرات، پاکستان کے ساتھ مفاہمت نامے کی خلاف ورزی اور بحیرۂ خزر سے متعلق کنونشن کے بارے میں وضاحت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے راستے کے تعین کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک مخصوص بحری راستہ موجود تھا، تاہم اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک اب یہ راستہ قابل قبول نہیں ہے اور ایک نیا راستہ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔
عراقچی نے واضح کیا کہ نئے راستے کے تعین کا معاملہ وسیع تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں کا حامل ہے۔ نئے مستقل راستے کے طے ہونے سے قبل ایک عارضی راستہ مقرر کیا جائے گا جو بعد میں حتمی راستے کی بنیاد بنے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کی عسکری اور بحری افواج کے درمیان دستیاب نقشوں کی بنیاد پر مذاکرات بھی ہو چکے ہیں اور ان مذاکرات کے حتمی نتیجے کے بعد نیا بحری راستہ متعین کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے امکان کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کو کھولنا دیگر شرائط اور حالات پر بھی منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت نامے کی خلاف ورزی امریکہ کی جانب سے کی گئی۔ ان کے مطابق مفاہمت نامے کی پانچویں شق پر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے عمل درآمد جاری تھا اور طے پایا تھا کہ ایک ماہ کے اندر بحری آمدورفت معمول کی سطح پر واپس آجائے گی۔
عراقچی نے بتایا کہ تقریباً دو ہفتوں کے اندر ہی بحری آمدورفت معمول کی سطح کے 60 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم امریکہ آبنائے ہرمز میں نئے راستے قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے متعدد مرتبہ انتباہ کیے جانے کے باوجود امریکہ نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور ایران کے کردار کو متاثر کرنے کی کوشش کی، لہٰذا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مفاہمت نامے اور آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایران کے مؤقف کو مجروح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ